اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ہندوستانی ریاتی آسام بی جے پی یونٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک متنازع ویڈیو نے ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کے روز بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ویڈیو میں آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو “پوائنٹ بلینک رینج” پر اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں عدلیہ فوری کارروائی کرے۔
یہ ویڈیو، جسے بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا، مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کو رائفل تان کر دو افراد پر فائر کرتے ہوئے دکھاتا ہے، جن میں ایک شخص ٹوپی پہنے ہوئے ہے جبکہ دوسرے شخص کو داڑھی ہے۔ ویڈیو کا عنوان ’پوائنٹ بلینک رینج‘ رکھا گیا تھا اور اس میں “No Mercy” اور “Foreigner-Free Assam” جیسے اشتعال انگیز جملے شامل تھے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ مناظر براہِ راست اقلیتوں، بالخصوص بنگالی نژاد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں۔
ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب آسام میں پہلے ہی بنگالی نژاد مسلمانوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے پر سیاسی اور سماجی کشیدگی موجود ہے۔ ویڈیو نے اسی تناؤ کو مزید ہوا دی ہے۔
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان ساگریکا گھوش نے اس ویڈیو پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھاکہ “شرمناک۔ جس نے بھی یہ اشتہار بنایا ہے، اسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔ آپ کو کارروائی کرنی ہوگی۔” انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو کو بھی ٹیگ کیا۔
کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بی جے پی کو “اجتماعی قاتل” کہا اور نفرت، زہر اور تشدد کا ذمہ دار وزیر اعظم مودی کو ٹھہرایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا قانونی نظام سو رہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں پر فائرنگ دکھانے والی ویڈیو محض ہٹانا کافی نہیں، بلکہ اس پر سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور تنظیمی امور کے انچارج کے سی وینوگوپال نے اس ویڈیو کو “نسل کشی کی کھلی اپیل” اور “فاشسٹ حکومت کا پرانا خواب” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ٹرول مواد نہیں بلکہ “اوپر سے پھیلایا گیا زہر” ہے، جس کے سنگین نتائج ہونے چاہئیں۔ وینوگوپال نے واضح طور پر کہا کہ وزیر اعظم سے کسی کارروائی کی امید نہیں، اس لیے عدلیہ کو بغیر کسی نرمی کے مداخلت کرنی چاہیے۔
کانگریس لیڈر شمع محمد نے بھی سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کی بات کرتے ہیں، مگر آسام کے وزیراعلیٰ کے ذریعے بی جے پی کے آفیشل ہینڈل سے مسلمانوں کو گولی مارتے دکھانے والی ویڈیو پوسٹ کی جاتی ہے۔ انہوں نے اسے آئینِ ہند پر حملہ قرار دیا اور سپریم کورٹ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔
ادھر شیوسینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمان پریانکا چترویدی نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “پوائنٹ بلینک شاٹ” کے عنوان سے پوسٹ کی گئی یہ ویڈیو شدید نفرت اور سیاسی نشانہ بندی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ویڈیو بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی، مگر اتنی دیر تک آن لائن رہی کہ لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کر کے مزید پھیلا چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اس قسم کی نفرت انگیز سیاست کو نظرانداز کر دیتا ہے اور بی جے پی کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
آپ کا تبصرہ